کامیاب انقلاب کے بعد کیا کیا جائے گا؟



:معاشرتی فلاح و بہبود/دولت کی تقسیم نو/شہری حقوق
۔ دولت کی منصفانہ تقسیم نو سرانجام دی جائے گی

۔ امیروں اورجاگیرداروںپرٹیکس کی موجودہ شرح برقراررکھی جائے گی ۔ تاہم ٹیکس کی وصولی یقینی بنائی جائے گی۔

۔ دولت پر لگایا جانیوالا ٹیکس اوروہ لوگ جنھوں نے رقوم ادھارلیں لیکن پھرکبھی واپس نہیں کیں ان سے نکلوائی جانیوالی رقوم کو کم آمدن والے گھرانوں، خوراک، زرعی صنعت، بجلی، پیٹرول،اوردیگرمنصوبےجو قلیل اورطویل المدت فوائد کے حامل ہوں ، کیلئے مختلف سبسڈیز (امداد) دینے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

۔ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ہر فرد واحد جو کم آمدن والے درجہ (کیٹیگری) میں ہے، وہ بھاری سبسڈی دی جانیوالی خوراک سے فائدہ اٹھا کرکھا پی سکتا ہے

۔ ہروہ شخص جو طبی علاج برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اس کے لئے طبی دیکھ بھال یقینی بنائی جائے گی۔

۔ ہسپتالوں کی موجودہ صورتحال میں بہتری لائی جائیگی اور نئے ہسپتال تعمیر کیے جائیں گے

۔ یقین دہانی کرائی جائے گی کہ ہرانفرادی شخص کے شہری حقوق کی حفاظت ہو۔

۔ اقرباء پروری، معاشرتی درجات یا خاندانی پس منظر کے برعکس یہ یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ لوگوں کوصرف اور صرف میرٹ پر پرکھا جائے۔

۔ طبی ڈاکٹراورنرسوں کو بہترطورپرملازمتیں سرانجام دینے اورخوش اخلاقی سے بات کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ ان کی تنخواہیں ایک واضح فرق کے ساتھ بڑھائی جائیں گی۔

۔ توانائی کی صورتحال پرقابو پانے کیلئے طویل المدتی اور قلیل المدتی ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔ فوری اقدامات میں بجلی پیدا کرنے کیلئے کوئلے، ہوا، اورسورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔

۔ نئے کاروباری سینٹرز (شہروں،اورقصبوں) میں انفراسٹرکچرقائم کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اس سے دولت کی تقسیم نو میں مدد ملے گی اوردیہی سے شہری علاقوں کی جانب نقل مکانی میں کمی واقع ہو گی۔


بد عنوانی کا خاتمہ/قانون و انصاف کی صورتحال میں بہتری لانا:
۔ وہ لوگ جو بد عنوانی کرچکے ہیں ان کا مکمل احتساب کیا جائے گا۔

۔ پاکستان سے چرائے گئے اربوں ڈالرجنھیں ملک کے اندر یا بیرون ملک کہیں غائب کر دیا گیا ہے واپس پاکستان لائے جائیں گے۔ وہ رقم جو بیرون ملک چھپائی گئی ہے،اکیلے ہی ہمارے معاشی مسائل کو حل کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بینکوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور دیکھا جائےگا کہ کس نے قرض لیا ہے اور پھر واپس نہیں کیا۔ اس رقم کا سراغ لگایا جائے گا۔ رقم کا سراغ لگانے کیلئے تمام تر قانونی ذرائع اورطریقے استعمال کیے جائیں گے۔

۔ تمام قومی اکائونٹس کو شفاف رکھا جائے گا تاکہ ہر شخص ان کا جائزہ لے سکے اور سوالات کر سکے۔

۔ قومی سطح سے سب ڈویژن کی سطح تک تمام محکموں کے اکائونٹس کو آن لائن کیا جائے گا (ہر روزاپ ڈیٹ کیا جائے گا)۔ ہرشخص کی جب اور جہاں چاہے ان تک رسائی ہو گی۔

۔ تمام سورسنگ (پرچیزنگ وغیرہ) کا ریکارڈ آن لائن ہو گا۔ ہر اعلی درجے کے بیوروکریٹ کی تنخواہ اور ملازمتی ذمہ داریاں آن لائن موجود ہوں گی۔ یہ سب عوامی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا

۔ حکومت کی ملکیت تمام جائیداد کی فہرست بنائی جائے گی۔ اس میں کسی قسم کی فروخت شفاف طریقے سے کی جائے گی اور تمام ریکارڈ آن لائن موجود ہو گا۔

۔ منتخب شدہ نمائندگان کو خرچ کرنے کیلئے کوئی رقم نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے وہ بد عنوان ہوجاتے ہیں۔

۔ نیب کو عدلیہ کے تحت کر دیا جائے گا۔ اور اسکےاعلی ترین عہدوں پرسپریم کورٹ لازماً ڈ یوٹی پرموجود ججزمتعین کرے گی۔ نیب یہ یقینی بنائے گا کہ ہردرجہ پر،ہرشخص کو اس کے افعال کی نسبت قابل احتساب ٹھرایا جائے۔

۔ بدعنوانی کے خلاف سخت ترین قوانین کو فعال اورلاگو کیا جائے گا۔ بدعنوانی کا سراغ لگانے کیلئے انٹر نیٹ اوردیگرذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ بد عنوان لوگوں کو مثالی سزائیں دی جائیں گی۔

۔ (ہرڈویژن کی سطح پر) نئی پولیس فورس قائم کی جائے گی۔ پولیس والوں کی تنخواہیں دوگنا کی جائیں گی۔ نوجوان لوگوں کو اعلی تنخواہوں پر ملازمت دی جائے گی تاکہ وہ بد عنوانی کی سرگرمیوں سے دوررہیں۔ یقینی بنایا جائے گا کہ وہ پوری دلجمعی اورایمانداری کے ساتھ قوانین کا اطلاق کریں۔

۔ عدلیہ کو مکمل آٓٓزاد بنایا جائے گا جس پرایگزیکٹیو برانچ کا کسی قسم کا کوئی اثر و رسوخ نہ پڑ سکے۔

۔ چندانفرادی لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پورے ملک کو یرغمال بنا لیں۔ بلوچستان میں یہ جاننے کیلئے ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ وہ سرداری نظام چاہتےہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو سرداری نظام کو مکمل ختم کر دیا جائے گا۔ بلوچستان کےعلاقوں اورلوگوں کی ترقی کیلئےبھاری سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس صوبہ سے کمائی جانیوالی اسی ۸۰فیصد تک رقوم کی سرمایہ کاری دوبارہ انہی علاقوں میں کی جائے گی۔

۔ دہشت گردی سے متعلق، بنیادی عناصر کو ہدف بنایا جائے گا۔ دہشت گردی کے پیچھے حقیقی وجوہات پر توجہ دی جائے گی اور ان کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے کثیرالپہلو حکمت عملی استعمال کی جائے گی۔


معاشی خوشحالی (مہنگائی پر قابو پانا) اورروزگار گار کے زیادہ مواقع پیدا کرنا :
۔ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضے جلد از جلد ادا کیے جائیں گے تاکہ ہم ان کے دبائو سے جلد از جلد نجات حاصل کر سکیں۔

۔ زرعی شعبہ کو اولین اہمیت دی جائے گی تاکہ ہم ہاکستان کو سچے معنوں میں ایک زرعی ملک بنا سکیں۔

۔ زرعی اور زمینی اصلاحات لائی جائیں گی ۔ جاگیرداروں کو مجبور کیا جائے گا کہ زمین غریب لوگوں کو فروخت کریں تاکہ وہ بھی باعزت طور پر اپنا گزارہ کر سکیں۔ اسی طرح زمینیں کارپوریشنز کو بھی دی جائیں گی تاکہ وہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ فوڈ پراسیسنگ صنعتیں قائم کر سکیں۔ اسطرح سے جاگیرداروں کے اثر و رسوغ کا بادل چھٹ جائے گا۔

۔ نجی سرمایہ کاری کے نظام کی حمایت کی جائے گی اور سرمایہ کاری کی حفاظت کی جائے گی تاکہ یہ نظام ملازمتیں پیدا کر سکے۔

۔ حقیقی جی ڈی پی کو مستقل طور پرسات( ۷) فیصد سے زائد رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

۔ برآمدی پالیسی کو تبدیل کیا جائے گا تا کہ یقینی بنایا جا سکے کہ زرعی مصنوعات کو صرف اس وقت برآمد کیا جا ئے جب وہ وافر مقدارمیں موجود ہوں اور ویلیو ایڈڈ شکل میں میسر ہوں۔

۔ خوراک کی پراسیسنگ صنعت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات بنائےتاکہ روزگار کی صورتحال میں بہتری آ سکے۔

۔ کمی اورموسم ختم ہونے کے باوجود، اشیاء کی موجودگی یقینی بنانے کیلئے کہ ہمارے خوراک کی مصنوعات میسر رہیں کولڈ سٹوریج یا ٹھنڈے ذخائر تعمیر کیے جائیں گے۔

۔ مزدوری وہنرمندی میں اخراجات کو کم رکھتے ہوئے ہمارے معاشی مسابقتی ایڈوانٹیج کے حصول کیلئے ہرممکن کوشش کی جائے گی۔

۔ زیادہ سے زیادہ سیلابی پانی کو محفوظ ذخیرہ کرنے کیلئےحکمت عملی کے ساتھ پانی کے ذخائرکی تعمیر کی جائے گی اور اسے سمندرمیں ضائع کرنے کے بجائے اس کا پیداواری استعمال کیا جائے گا۔

۔ فاصلوں میں کمی لانے کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیرکی جائے گی اور اسے بہتر بنایا جائے گا تاکہ وقت اور توانائی بچائی جا سکے۔

۔ برآمدات میں اضافہ کیلئے دیگر ممالک سے آزادانہ تجارت کے معاہدے کیے جائیں گے۔

۔ ہر ممکن طریقے سے برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔ مینوفیکچررز کوجدت و اختراح کے ساتھ اپنے ہی مابین مقابلہ بازی کے بجائے نئی مصنوعات سامنے لانے کیلئے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی۔

۔ سالانہ کیلنڈر مرتب کیا جائے گا جس میں مستقل طور پرزیادہ معاشی سرگرمیوں کے دن جیسا کہ مدرز ڈے وغیرہ کو شامل کیاجائے گا۔

۔ سفارتخانوں میں کمرشل شعبہ کو موثراندازمیں استعمال کیا جائے گا تا کہ سرمایہ کاری اوربرآمدات میں اضافہ ہو سکے۔

۔ مینوفیکچرنگ میں معیار کی ضمانت کو انتہائی درجہ کی ترجیح دی جائے گی۔

۔ تخلیقی پراپرٹی کے حقوق کی حفاظت کیلئے ہر کوشش کی جائے گی۔

۔ صنعتیں جیسا کہ سیمینٹ، معدنیات، کیمیکل، کھادیں، فوڈ پراسیسنگ کی انتہائی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ دیگر ممالک پرانحصاراوراخراجات کو کم کیا جا سکے۔

۔ سٹیٹ بینک کو مکمل طور پر خود مختیار بنایا جائے گا اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ ایسی مالیاتی پالیسیاں تشکیل دے جن سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اوراشیاء کی فراہمی میں اضافہ کا باعث بنیں۔

۔ دفاعی پیداوار کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی۔

۔ سیاحت کا محکمہ دیگر ممالک کے محکموں کے برابر لایا جائے گا اور سیاحت کو انتہائی بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے گا۔


خارجہ پالیسی :
۔ آزاد، شفاف اورذمہ دار، صحافت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اوراس کی ترویج کی جائے گی۔

۔ خارجہ پالیسی کا از سر نوجائزہ لیا جائے گا، ہماری خارجہ پالیسی کا محور اسلامی ممالک ہوں گے نہ کہ انڈیا یا امریکہ ۔

۔ اسلامی ممالک کو ان کی کرنسی میں تجارت کا کہا جائے گا تاکہ وہ اپنی کرنسی کی اہمیت بڑھا سکیں۔

۔ کشمیر پالیسی: اس معاملہ کو غیر سیاسی شخصیات کے ذریعے پر امن ذرائع کی مدد سے اٹھایا جائے گا۔ اسے جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرز پر حل کیا جائے گا۔ دنیا بھر میں شعور و آگہی کیلئے موثر اندازمیں مختلف میڈیا استعمال کیا جائے گا۔

۔ امریکہ، چین، انڈیا اور روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصی ترجیح دی جائے گی،باہمی احترام، ، برابری اور خود مختیاری کی بنیاد پریہ تعلقات بہتر کیے جائیں گےاور بڑھائے جائیں گے۔


تعلیم/اختراح :
۔ موجودہ سکولوں کی حالت بہتر کرنے اور جہاں ضرورت ہو وہاں نئے سکول کھولنے کیلئے تعلیم کے بجٹ میں جی ڈی پی کے پچیس فیصد کے برابراضافہ کیا جائے گا۔ طریقہ تدریس میں بہتری لائی جائے گی۔ ملک بھرمیں یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جائے گا۔ تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام طالب علم ایک جیسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جہاں ضروری ہو، وہاں سکول بس، رکشہ کی خدمات مہیا کی جائیں گی۔

۔ سیکھیں اورکمائیں پروگرام متعارف کرائے جائیں گےتاکہ بچے کچھ کما کر اپنے خاندانوں کی مالی معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے تعلیمی نصاب پڑھیں اورمہارتیں سیکھتے رہیں۔

۔ اساتذہ کی باقاعدہ تربیت کی جائے گی اور ان کی تنخواہیں دوگنا کی جائیں گی تاکہ وہ بہتر انداز میں ملازمت کر سکیں۔

۔ اعلی تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جائے گی ۔ پاکستان میں معروف یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کیے جائیں گے تاکہ برین ڈرین (صلاحیتیوں کی بیرون ملک منتقلی)کی حوصلہ شکنی کی جائےاور کثیر زرمبادلہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

۔ تحقیق و ختراح کے شعبہ میں بھاری سرما یہ کاری کی جائے گی۔ تاکہ مینوفیکچررزاستعمال اوربیرون ملک برآمد کیلئےاندرون ملک بنی ہوئی نئی مصنوعات کے ساتھ سامنےآ سکیں۔ اس سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی۔

۔ لوگوں کی فعالیت کا معیاربڑھایا جائے گا تاکہ وہ زیادہ بارآوراور مسابقتی ثابت ہو سکیں


مذہب/سیاست :
۔ اسلامی اموراوراقلیتوں کےامورکو مناسب توجہ دی جائے گی

۔ سچی پاکستانی ثقافت کو فروغ دیا جائے گااور لوگوں کو اًگاہی دی جائے گی کہ ہمارے اور ہمارے ہمسائیہ ممالک کی ثقافت میں کیا فرق ہے۔ یہ بھی بتایا جائے گا کہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر ہے۔ ہم اپنی موجودہ اورآنیوالی نسلوں کو یہ پیغام نہیں دے سکتے کہ ہم اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔

۔ فلم تھیٹر کی صنعت میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ یہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکے۔ پاکستانی سینیما میں ہمسائیہ ممالک کی فلموں کے بجائے پاکستانی فلمیں ہی چلائی جائیں گی۔

۔ بری عادات جیسا کہ صفائی ،دوسروں کے حقوق کا خیال ، اقربا پروری وغیرہ کے خاتمہ کیلئے بڑے پیمانے پر معاشرتی ذہن سازی کی جائے گی۔


متفرقات:
۔ سمندر پار پاکستانیوں کو حکمت عملی کے تحت ان کے ملک کی اندرونی سیاست میں شامل کیا جائے گاتاکہ وہ پاکستان اور اسلام کیلئے پالیسیوں پر اپنے مثبت اثرات ڈال سکیں۔

۔ موثر انداز میں ملک کی بہتری کیلئےبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات سے استعفادہ حاصل کیا جائے گا۔

۔ آبادی کو قابو میں لانے کیلئے ہر کوشش کی جائے گی۔

۔ حکمت عملی کے طور پررضاکاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اوررضاکاروں کوانعام دیے جائیں گے۔

۔ نچلی سچح پر جمہوریت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ نوجوان لوگوں کو آگے بڑھ کر سیاست میں حصہ لینے کیلئے کہا جائے گا تاکہ ہرطبقہ اورہرعلاقہ سے راہنما سامنے آ سکیں۔

۔ محکمانہ کھیلوں کے بجائے بین الشہری کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اسطرح لوگ زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں اورمقابلے کا معیار بھی بڑھتا ہے۔ نیا ٹیلینٹ سامنے اًئے گا۔ کھلاڑیوں کی مالی معاونت کیلئے کاروباری طبقہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ مختلف کھیلوں کیلئے زیادہ رقوم مختص کی جائیں گی۔ سب سے بہترین کارکردگی کے حامل کھلاڑیوں کو انعامات دیے جائیں گے۔ اسی طرح سپورٹس آرگنائزیشن کا درجہ وارنظام قائم کیا جا ئے گا۔

۔ میڈیا کی ایسے پروگرام نشر کرنے پرحوصلہ افزائی کی جائے گی جن میں پاکستانی ثقافت کو دکھایا جائےاور وہ پروگرام جو معاشرے میں برے عناصر تخلیق کرتے ہیں انہیں روکا جائے گا۔

۔ اسراف اورضیاع پر قابو پا کر دفاعی بجٹ کو ایک معقول و مناسب حد پر لایا جائے گا۔

۔ سرحد پرسلامتی ودفاع کی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے سرحدی محافظوں کی تعداد میںپچاس فیصد اضافہ کیا جائے گااورافواج کو زیادہ جدید سازوسامان سے لیس کیا جائے گا۔

۔ معاشی، سیاسی یا سماجی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے قوانین میں انتہائی بنیادی تبدیلیاں لائیں جائیں گی۔

۔ ریلوے کی خدمات کے معیار میں بہتری لانے کیلئے اس میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔

۔ ماحول: جنگل، ہوا کے معیار، جنگلی حیات، دریا، جھیلوں کے معیار میں بہتری لائی جائے گی۔ ری سائیکلنگ کی ضرورت پڑے گی۔

۔ ہرماہ کے اختتام پرصدراوروزراءایک آزادانہ پریس کانفرنس کریں گےجس میں پاکستان کی سلامتی سے متعلق سوالات کے علاوہ، کسی اورسوال کے جواب سے انکار نہیں کیا جائے گا۔

۔ وفاقی سطح پر وزارتوں کی تعداد پندرہ سے بیس کی حد میں ہو گی۔ ہر وزارت کے نیچے محکموں کی تعداد بڑھائی جا ئے گی۔

۔ وفاقی سطح پر وزارتیں بمع محکموں کی مندرجہ ذیل فہرست ہو گی۔


(وفاقی سطح کی وزارتیں (بمع ان کے ماتحت محکمے)
۔ مذہب اور اقلیتی امور: اسلام، اقلیتیں، انسانی حقوق، معاشرتی مسائل

۔ مالیات: بجٹ، مالیات، منصوبہ بندی، بیکنگ سیکٹر، سٹاک ایکسچینجز، اورآمدن (ٹیکس/کسٹمز) مائیکرو فنانس

۔ کامرس: برآمدی پالیسی، معیار کی ضمانت، تخلیقی جائیداد کا تحفظ ( ٹریڈ مارک اور پیٹنٹ)، علاقائی اور دیگر حکمت عملی سے متعلق تعاون کے معاہدے اور برآمدی منڈیوں کی ترقی۔

۔ صنعت و سرمایہ کاری: سرمایہ کاری کا فروغ، ری سائیکلنگ کرنے کی صنعتیں، معدنیات، خوراک کی پراسیسنگ، چمڑا، ٹیکسٹائل، ہنڈی کرافٹ، آئل و گھی، فیشن کی صنعت، چھوٹی صنعتیں اور دیگر صنعتیں

۔ تعلیم: سکول، فنی تربیت کے سکول، اعلی تعلیم، تحقیق و اختراح، بڑوں کی تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور نصاب کی تدوین و ترتیب۔

۔ نقل وحمل: پی آئی اے، ریلوے، شہری نقل و حمل، انفراسٹرکچر کی مرمت اور ترقی، روڈ سیفٹی اور ہائی وے پولیس۔

۔ اطلاعات: حکومتی انفارمیشن ، میڈیا ، پی ٹی وی، پیمرا، معاشرتی انجینئرنگ، لوگوں کوجمہوریت کے بنیادی امور سے متعلق تعلیم: سیاست اورمعاشیات۔

۔ توانائی اور پانی: بجلی، توانائی کے متبادل ذرائع ( سورج، کوئلہ، ہوا وغیرہ) اور پانی (ذخیروں کی تعمیر، دریائوں اور ڈیمز کی تعمیرو مرمت)۔

۔ سیاحت اور ثقافت: سیاحت کی ترقی ، قومی پارک، تاریخی مقامات، ورثہ، ثقافت، فنون، تھیٹر اورسینیما۔

۔ صحت وانسانی ترقی: صحت، بچوں کی نشونما، خواتین کےامور، خاندانی منصوبہ بندی، بیت المال اورمنشیات کی روک تھام

۔ دفاع: دفاعی قوتوں کے معاملات اوردفاعی پیداوار۔

۔ خارجی معاملات: خارجی پالیسی، کشمیر، اسلامی ممالک، چین، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ، یورپ اور مشرقی بعید ایشیا/ آسڑیلیا۔

۔ زراعت: زراعت کیلئے حکمت عملی ،خوراک کی سیکیورٹی، کسانوں کی فصلوں سے متعلق معاونت، بیجوں کی تیاری اور خوراک کے ذخائر۔

۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی: تمام وفاقی، ڈویژن اور سب ڈویژن کی سطح کے محکموں کو کمپیوٹرائزڈ کرنا، ریکارڈ کی سافٹ کاپی میں منتقلی، آئوٹ سورس صنعتوں کی ترقی، انٹر نیٹ انفراسٹرکچر کی ترقی، آئی ٹی کی تعلیم، نہایت نچلے درجے تک کمپیوٹر، انٹر نیٹ کی فراہمی، کمپیوٹرکی تیاری سے متعلق صنعتوں کا فروغ۔

۔ انصاف: قانون، اٹارنی جنرل اورایف آئی اے۔

۔ داخلی معاملات: نقل مکانی، وفاقی پولیس، زمینی نظام میں اصلاحات اور معاملات برائےسمندر پار پاکستانی۔

۔ ماحول: ماحولیاتی مسائل،جنگلی حیات، جنگل، جانوروں کی حفاظت اور صفائی ۔

۔ دیگر امور: کھیل، رضاکاری، این جی اوز کیلئے ڈائریکٹوریٹ