Pakistan Revolution: It Takes A Revolution to Implement True Reforms!




مجھے فکر یہ نہیں ہے کہ یہ ملک کیسے چلے گا۔

مجھے فکر یہ ہے کہ کہیں ایسے ہی نہ چلتا رہے

شہزاد رائے کا ایک گانا ’لگا رے‘                                        

                       ہماری اصلاحی تحریک کا جوہر ہے۔ ۔ ۔




ایک پائدار ، پر امن انقلاب ہی ہماری امنگوں کا ترجمان ہو سکتا ہے


جب تک ہمارا جمہوری نظام ہمارے تجویز کردہ تصورات کے مطابق تبدیل نہیں ہو جاتا تو کوئی بھی ایسا شخص جو مخلص اور قابل ہو کسی ایسے عہدے پر نہیں پہنچ سکتا جہاں وہ ملک و قوم کیلئے کچھ اچھا کرنے کے قابل ہو۔ یہ بات حالیہ دنوں میں ایک مقبول راہنما کے اعلان سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ ان لوگوں کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہےجو ماضی میں نہایت بد عنوان ثابت ہو چکے ہیں۔ موجودہ نظام کے تحت اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں اور اسےاقتدار میں آنے کیلئے انہی لوگوں کی مدد درکار ہو گی ۔ اسطرح صورتحال میں کوئی تبدیلی رانما نہیں ہو گی ۔ ہمارے ملک کو جن مسائل کا سا منا ہے، ان کا حل محض چہروں کی تبدیلی سے نہیں نکل سکتا۔



!ﺑﮭﺖ ﮬﻮ ﮔﻴﺎ




ہم اسطرح اپنے غریب بھائی بہنوں کو پستے ہوئے اور اپنے ملک کو تنزلی کے گڑھے میں گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ ۔ ۔ ۔

جبکہ ہمارے غریب ملک کے امیر راہنما، غریب عوام کے اخراجات پر ایک پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔



                                                                                                                                                               

                                                                               آئیےاپنے ملک کو پھر پہلے جیسا بنائیں ۔ ۔ ۔ ۔

ہمارے ملک میں جمہوریت اپنا مقصد کھو چکی ہے۔یہ یہاں بلی اور چوہے کا تماشہ بنی ہوئی ہے۔

غریب عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائےہمارے راہنما اپنی حکومتوں کی تشکیل اور اسے بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ بد عنوان ذرائع سے اپنے آپ کو امیر تر بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ تاکہ وہ اور طاقتورہو جائیں۔

ہم مزید انتظار برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمیں وہ انقلاب لانا ہی ہو گا جس کا ہمارا ملک شدت سے منتظر ہے!



تو آئیے شمولیت اختیار کریں انقلاب میں کیوں؟