Pakistan Revolution: It Takes A Revolution to Implement True Reforms!




ڈاکٹر شہزاد لطیف کون ہیں؟


ڈاکٹر شہزاد لطیف ۲۲ اگست ۱۹۶۲ کو پیدا ہوئے اور جناب علامہ محمد اقبال کی ہمسائیگی میں سیالکوٹ میں پرورش پائی۔

آپ نے سیکنڈری سکول سرٹیفیکیٹ فیڈرل گورنمنٹ ہائی سکول سیالکوٹ کینٹ سے حاصل کیا۔ ۱۹۸۱ میں آپ کا خاندان کراچی تشریف لے آیا۔ آپ نے ہائیرسیکنڈری سکول سرٹیفیکیٹ فیڈرل گورنمنٹ کالج کراچی کینٹ سے حاصل کیا۔

۔ ۱۹۸۳ میں مزید تعلیم کیلئے آپ امریکہ تشریف لے گئے۔ آپ نے اپنی بیچلر آف سائنس کی ڈگری روچسٹر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روچیسٹر، نیویارک سے حاصل کی۔

آپ کو سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کیا گیا اورآپ طلبا کی لائف بورڈ کے اعزازی ممبر بھی رہے۔

آپ نے نیو یارک کی سٹی یونیورسٹی سے سعاشیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔



آپ نے سیاسی معاشیات میں ڈاکٹریٹ کیا ۔ اپ کے مقالہ کا عنوان ’’پاکستان میں مہنگائی کی سیاسی معاشیات‘‘ تھا۔

ڈاکٹر لطیف نے پاکستانی سیاست، پاکستان کے معاملات، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی معاملات پر بڑے پیمانے پر لکھا ہے ڈاکٹر لطیف ان تمام مسائل پر نظر رکھتے ہیں۔ جن میں انکے پاکستانی بہن اور بھائی مبتلا ہیں۔ وہ ایک جانثار وشیدائی پاکستانی ہیں۔ اور اپنے ہر ہم وطن کا درد محسوس کرتے ہیں۔ جب اسے بے روزگار یا بنیادی ضروریات زندگی سے محروم دیکھتے ہیں۔ جبکہ ، اردگرد موجود دنیا میں لاکھوں لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات ہر وقت استعمال کر رہے ہوں۔

ڈاکٹر لطیف درمیانہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور سیاستدان نہیں ہیں۔

وہ ایک چھوٹے بزنس کے مالک بھی ہیں اور اس بات کا یقین ہے کہ پاکستان کو ایک کاروبار کی طرح چلانے کی ضرورت ہے. عوام اپنے گاہکوں اور عوامی خدمات مصنوعات بنیں جو عوام کو پہنچائیں!

ڈاکٹر لطیف کا خیال ہے کہ پاکستان میں سب کچھ سیاسی بن گیا ہے. ذاتی اور پارٹی کی سیاست پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، رہنماؤں کو عوامی خدمت میں 100 فیصد دینا ضروری ہے

جمہوریت عوامی خدمت کے لے ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے عوامی خدمت نے پاکستان میں ثانوی حیثیت حاصل کی ہے

اس لیے انہوں نے نئ سیاسی حکومت کی تشکیل کی تجویز دی ہے جسں سے حکومت کو اس سطح پر لے آئے جہاں اسے خدمات فراہم کرنے کی ضرورت ہے یعنی عام لوگ

اس مجوزہ ساختہ ساختہ لوگوں کے ساتھ سیاستدانوں کو فائدہ نہیں ہوگا ڈاکٹر لطیف کو یقین ہے کہ کلات، لیہہ، سہی، لاڑکانہ، بنو، بدین، رحیم یار خان وغیرہ میں ہر ایک پاکستانی رہائش گاہ ہے جساکہ جو لاہور میں رہتا ہے. ان کی تجویز کردہ ڈھانچے کے ساتھ ہر پاکستانی برابر سماجی خدمات حاصل کرے گا اور پاکستان کو برابری کی ترقی ملےگی


وہ ایک نرم دل آنسان ہیں جو اپنی صلاحیت کے مطابق غریبوں کے لے سب کچھ ممکن کرتے ہیں

انکا خواب ہے کہ ایک دن ہر پاکستانی اتنا آزاد ہو کہ اسکا ضمیر اس کے مکمل کنٹرول میں ہو، لہذا وہ اپنے ملک کے لئے کچھ بھی غلط نہیں کرے گا

ڈاکٹر لطیف اپنی پوری کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو نیچے جانے کے بجائے، ایک تسلیم شدہ اقتصادی، سیاسی اور سماجی طاقت کی حیثیت سے بڑھتا دیکہیں