ہمیں اس انقلاب کی ضرورت کیوں ہے؟


      !ﺑﮭﺖ ﮬﻮ ﮔﻴﺎ

لوگ ہمیں ایک ناکام ریاست کہتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا ملک پانچ سال سے زیادہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔

ہماری معیشت تباہ حال ہے۔ ہم کھربوں روپوں کے قرض تلے دبے ہوئے ہیں۔ اورقرض کی گہری کھائی میں مزید نیچے گرتے جا رہے ہیں۔

ہماری پالیسیاں بیرونی عناصر کے اشاروں کے موہون منت ہیں

ہم شدید ترین مہنگائی کا سامنا قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کے ساتھ برداشت کر رہے ہیں۔ شدید مہنگائی، بے روزگاری،اور کم روزگاری ہمارے لوگوں سے بنیادی ضروریات زندگی کا حق بھی چھینتی جا رہی ہے۔<

حتی کہ درمیانہ طبقہ بھی مہنگائی اورملازمتیں نہ ہونے کی وجہ سے خط غربت سے نیچے گرتا جا رہا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ضروریات کو پورا کرنے کیلئےبنیادی اشیاء کی فراہمی میں اضافہ کرنے کی پیشین گوئی یا کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔ انفرادی لوگ اورکاروباری حضرات کو بنیادی عوامل زندگی میں کمی کا سامنا ہے، جس سے پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

بد عنوانی اپنے پورےعروج پر ہے۔ بد عنوانی ہمارا قومی وصف بن چکی ہے۔ میں آپ کو دعوی سے کہتا ہوں کہ کسی ایک شعبہ کا نام بتائیں جہاں بد عنوانی نہ ہو۔ افسوس! حتی کہ ہمارے کھلاڑی بھی بد قسمتی سے پاکستان کو ہرا کر زائد رقم بنانے کے ہتھکنڈے ڈھونڈ چکے ہیں۔ کس قدرشرم کی بات ہے

سیاست ایک خاندانی کاروبار بن گیا ہے۔ ’’سیاست کی منڈی‘‘ میں سیاستدانوں کی دوسری اور تیسری نسلی پیداوارآٓنا شروع ہو گئی ہے۔ جنھوں نے پہلے ہی اپنے والدین کے موجودہ یا پہلے والےعہدوں کی برکت سے بد عنوانی میں اپنا حصہ بٹورنا شروع کر دیا ہے۔

ترقی کے تناظر میں، سیاستدان ہمارے ملک کو دیگر دنیا کے ہمقدم رکھنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ جبکہ وہ صرف اسی جھگڑے میں الجھے ہوئے ہیں کہ کس طرح ہارس ٹریڈنگ ( لوٹوں) کی مدد سے اپنی حکومت کوتشکیل دیں یا بچائے رکھیں۔

شہروں میں اپنی برتری قائم رکھنے کیلئے سیاسی جماعتیں خود ہی ٹارگٹ گلنگ میں ملوث ہیں۔

سٹیٹس کو(ساکن صورتحال) کے تحت انتخابات سے چہروں کے علاوہ کچھ نہ بدلے گا۔ ایک ٹولہ برسر اقتدار آتا ہے قومی دولت سمیٹنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے پھر اس کی جگہ لے کر لوٹ مار کیلئے دوسرا ٹولہ آ جاتا ہے۔

ہم شیطانی چکر میں یونہی پھنسے رہیں گے اورغریب عوام گڑھے میں نیچے اور نیچے دھنستے رہیں گے۔

سطحی و بناوٹی تبدیلیوں سے کچھ نہیں ہو گا ۔ پورا نظام ہی بدلنا پڑے گا۔

یہ تبدیلی ہے صدارتی نظام اور صوبوں کی تحلیل ۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم قومی منظر نامہ سے موقع پرست سیاستدانوں سے چھٹکارہ حاصل کرستے ہیں۔ کیونکہ جب انہیں پتہ چلے گا کہ انہیں وزارتیں نہیں مل رہیں اور دولت بٹورنے کے لئے پر کشش عہدے بھی نہیں تو وہ خود ہی سیاست چھوڑ دیں گےاور نئے چہروں کو راستہ دیں گے جو اپنے لوگوں اور ملک سے مخلص ہوں گے۔

یہی وقت ہے ! سوچ میں پڑنے اور نظر انداز کرنے کے بجائے اب ایسا انقلاب آنے دیں



!انقلاب کا آغاز ہو چکا ہے



ہمارے مطالبات بہت سادہ ہیں



کیا آپ ان کی حمایت کیلئے تیار ہیں تاکہ ہم ملک میں وہ تبدیلی لاسکیںجس کی ہمارے ملک کو ضرورت ہے؟ رجسٹر ہوں