ہمارے مطالبات کیا ہیں؟


.ایک سچے انقلاب کیلئے تین اجزاء کا ہونا ضروری ہے۔ تصورو فکر، مطالبات اور قیادت

انقلاب کی باتیں تو بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ تاہم ، بد قسمتی سے تصور و فکر کی کمی ہے اور کوئی بھی شخص ٹھوس تبدیلیاں لانے کیلئےاپنے مطالبات پیش نہیں کر رہا اور اس ضمن میں کوئی قیادت و راہنمائی بھی میسرنہیں۔

ہم تصور و فکر رکھتے ہیں،ہمارے پاس مطالبات ہیں جو ملک میں وہ تبدیلیاں لائیں گے جن کی ملک کو ضرورت ہے اور ڈاکٹر شہزاد لطیف ہمیں وہ قیادت مہیا کریں گے جو یہ تبدیلیاں لا سکتی ہے۔


ہمارے مطالبات سادہ اور بالکل واضح ہیں


پہلا مطالبہ


پاکستان میں صدارتی جمہوریت لانے کیلئے آئین میں اور دیگر حکومتی ڈھانچہ میں تبدیلیاں کی جائیں جو ہم نے بیان کی ہیں ۔

صدر کا انتخاب کم از کم اکیاون (51) فیصدکی اکثریت سے ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر لوگ کریں گے جن کی عمر21 سال سے زیادہ ہو۔

صوبوں کو ڈویژنز میں منقسم کر دیا جائے اور ہر ڈویژن کو مزید 10 سب ڈویژنز میں تقسیم کر دیا جائے۔ ڈویژنز میں نظم و نسق ناظمین سنبھالیں گے۔ صدر ان ناظمین کو متعین کرے گا۔ ڈویژن کی حکومت ، سب ڈویژنزمیں سے منتخب شدہ نمائندوں کی ایک نمائندہ باڈی ہو گی۔ یہ لوگ اپنے اپنے علاقوں کے مسائل حکومت کے سامنے لائیں گے اورمقامی قوانین بنائیں گے۔

قومی پارلیمنٹ میں ہر ڈویژن سے 5 منتخب شدہ نمائندے ہوں گے۔ ہر نمائندہ 2 سب ڈویژنز کی نمائندگی کرے گا۔ جبکہ سینیٹ میں ہر ڈویژنز میں سے دو(2) نمائندے ہوں گے۔

تمام سب ڈویژنزآبادی کے لحاظ سے ایک جیسے ہوں گے ۔ اورہرڈویژن میں سب ڈویژنز کی تعداد مساویانہ ہو گی


دوسرا مطالبہ


سپریم کورٹ کے ججز کی سفارشات کی روشنی میں ایک نیا الیکشن کمیشن بنایا جائے



تیسرا مطالبہ


وفاقی اور صوبائی پارلیمنٹ تحلیل کر دی جائے۔ صدر مستعفی ہو جائے۔ نگران حکومت ، نگران صدر بمع پندرہ(15) وزراء کے کم سے کم کیبنٹ ممبران پر مشتمل تشکیل دی جائے ۔ نگران حکومت کے نمائندگان انفرادی طور پر جانے پہچانے نمایاں لوگوں میں سے منتخب کیے جائیں



چوتھا مطالبہ


صدر اور پارلیمانی ممبران کیلئے عام انتخابات کرائے جائیں۔
ڈویژنل قانون ساز نمائندگان کیلئے انتخابات کرائے جائیں



پانچواں مطالبہ


نیا صدراورپارلیمانی ممبران اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں۔
تعین کردہ ڈویژنل ناظمین اورمنتخب شدہ قانون ساز نمائندے حلف اٹھائیں